السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما جاء في حرم المدينة باب: مدینہ منورہ کے حرم کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَى زَاوِيَةٍ، فَطَرَدَهُمْ عَنْهُ قَالَ مَالِكٌ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فِي حَرَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْنَعُ هَذَا؟ " قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَنَا بِالْأَسْوَافِ وَقَدِ ⦗٣٢٦⦘ اصْطَدْتُ نَهَسًا فَأَخَذَهُ زَيْدٌ مِنْ يَدِي فَأَرْسَلَهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ: النُّهَسَاءُ الطَّيْرُ الصَّغِيرُ فَوْقَ الْعُصْفُورِ شَبِيهٌ بِالْقُنْبَرَةِ، الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ رَحِمَنَا اللهُ وَإِيَّاهُ، يُقَالُ هُوَ شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ.عطاء بن یسار سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کچھ لڑکوں کو پایا جنہوں نے ایک لومڑی کو ایک کونے میں گھیر رکھا تھا، تو انہوں نے ان کو اس لومڑی سے بھگایا۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں مگر انہوں نے کہا: کیا اللہ کے رسول ﷺ کے حرم میں یہ کیا جا رہا ہے؟
(ب) امام مالک رحمہ اللہ ایک شخص سے روایت فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میں اسواف نامی جگہ پر تھا، میں نے «النُّهَس» (ایک پرندہ) کا شکار کیا، تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ سے پکڑ لیا اور چھوڑ دیا۔
ابو عبداللہ بوشنجی کہتے ہیں: نہس ایک چھوٹا پرندہ ہے جو چڑیا سے بڑا اور چنڈول کے مشابہ ہوتا ہے۔ وہ شخص جس کا نام امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے نہیں لیا، کہا جاتا ہے کہ وہ شرحبیل ابوسعد ہیں۔