السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما جاء في حرم المدينة باب: مدینہ منورہ کے حرم کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا أَبُو ثَابِتٍ عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اصْطَدْتُ طَيْرًا بِالْقُنْبُلَةِ فَخَرَجْتُ بِهِ فِي يَدِي فَلَقِيَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ: " مَا هَذَا فِي يَدِكَ؟ " قُلْتُ: طَيْرٌ اصْطَدْتُهُ بِالْقُنْبُلَةِ فَعَرَكَ أُذُنِي عَرْكًا شَدِيدًا وَاسْتَنْزَعَهُ مِنْ يَدِي فَأَرْسَلَهُ، فَقَالَ: " حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَيْدَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا " قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ: يَعْنِي حَرَّتَيِ الْمَدِينَةِ، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ، وَفِي رِوَايَةِ الْمُؤَمَّلِيِّ، قَالَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا " يَعْنِي الْمَدِينَةَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِصَّةَ.صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے پھندے کے ذریعے ایک پرندے کا شکار کیا، میں اسے اپنے ہاتھ میں لے کر نکلا تو مجھے میرے والد سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ملے، انہوں نے پوچھا: ”تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ایک پرندہ ہے جس کا میں نے پھندے سے شکار کیا ہے، انہوں نے میرے کان کو خوب مسلا، رگڑا اور اسے میرے ہاتھ سے چھین کر چھوڑ دیا اور کہنے لگے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان شکار کو حرام قرار دیا ہے۔“ ابو مصعب کہتے ہیں: یعنی مدینہ کے دونوں سنگلاخ میدان۔
(ب) سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے“ اور قصے کا تذکرہ نہیں کیا۔