حدیث نمبر: 9968
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَادَةَ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ إهَابٍ وَكَانَتْ لَهُمْ فَرَآنِي عُبَادَةُ وَقَدْ أَخَذْتُ عُصْفُورًا فَانْتَزَعَهُ مِنِّي، فَأَرْسَلَهُ وَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَكَّةَ "، وَكَانَ عُبَادَةُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ

صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے بم یا گولی کے ذریعے پرندوں کا شکار کیا، میں ان کو اپنے ہاتھوں میں لے کر نکلا تو مجھے سیدنا ابوعبدالرحمن (عبدالرحمن بن عوف) رضی اللہ عنہ ملے، انہوں نے پوچھا: ”تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے گولی یا بم سے پرندوں کا شکار کیا ہے، انہوں نے میرے کانوں کو خوب مسلا، رگڑا اور انہیں میرے ہاتھ سے چھین کر چھوڑ دیا اور کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ان دو پہاڑوں“ یا فرمایا: ”مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے۔“
(ب) سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے“ اور قصے کا تذکرہ نہیں کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9968
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه البزار 3۔ رقم 1008»