السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا ينفر صيد الحرم ولا يعضد شجره ولا يختلى خلاه إلا الإذخر باب: حرم کے شکار کو نہ بھگایا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کی گھاس اکھیڑی جائے سوائے اذخر (ایک قسم کی گھاس) کے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوسَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى فَرَأَى رَجُلًا عَلَى جَبَلٍ يَعْضِدُ شَجَرًا فَدَعَاهُ، فَقَالَ: " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ مَكَّةَ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا؟ " قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ بَعِيرٌ لِي نِضْوٌ، قَالَ: فَحَمَلَهُ عَلَى بَعِيرٍ وَقَالَ لَهُ لَا تَعُدْ وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا.ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے حرم کا درخت کاٹا، وہ محرم ہو یا حلال، اس پر فدیہ ہے۔ چھوٹے درخت کے عوض ایک بکری اور بڑے درخت کے عوض گائے ہے۔ یہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے۔
(ب) ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور عطاء رحمہ اللہ اس بات پر متفق ہیں کہ بڑے درخت کے عوض گائے ہے۔
(ج) اور عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کسی درخت کے عوض بکری ہے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ موجود نہ ہو جس کو میں نے بیان کیا ہے تو وہ اس کے فدیہ میں اس کے برابر قیمت دے گا۔
(ح) عطاء رحمہ اللہ ایک آدمی کے متعلق فرماتے ہیں، جو حرم سے درخت کاٹتا تھا کہ پیلوں کے عوض ایک درہم اور بڑے درخت کے عوض ایک گائے ہے۔