السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا ينفر صيد الحرم ولا يعضد شجره ولا يختلى خلاه إلا الإذخر باب: حرم کے شکار کو نہ بھگایا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کی گھاس اکھیڑی جائے سوائے اذخر (ایک قسم کی گھاس) کے۔
حدیث نمبر: 9949
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوسَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى فَرَأَى رَجُلًا عَلَى جَبَلٍ يَعْضِدُ شَجَرًا فَدَعَاهُ، فَقَالَ: " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ مَكَّةَ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا؟ " قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ بَعِيرٌ لِي نِضْوٌ، قَالَ: فَحَمَلَهُ عَلَى بَعِيرٍ وَقَالَ لَهُ لَا تَعُدْ وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا.حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ پہاڑ پر ایک آدمی درخت کاٹ رہا تھا، اس کو بلوایا۔ اس سے پوچھا: کیا تو جانتا نہیں کہ مکہ کے درخت اور اس کا گھاس نہیں کاٹا جاتا؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن مجھے میرے ایک کمزور اونٹ نے اس پر ابھارا ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ایک اونٹ پر سوار کر دیا اور فرمایا: آئندہ نہ کرنا، اور اس پر کوئی تاوان نہیں ڈالا۔