حدیث نمبر: 9950
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ أَنَّ الرَّبِيعَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " مَنْ قَطَعَ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ شَيْئًا جَزَاهُ، حَلَالًا كَانَ أَوْ مُحْرِمًا فِي الشَّجَرَةِ الصَّغِيرَةِ شَاةٌ وَفِي الْكَبِيرَةِ بَقَرَةٌ " يُرْوَى هَذَا عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَعَطَاءٍ مُجْتَمِعَةً. وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ فِي الْإِمْلَاءِ: وَالْفِدْيَةُ فِي مُتَقَدِّمِ الْخَبَرِ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَطَاءٍ مُجْتَمِعَةٌ فِي أَنَّ فِي الدَّوْحَةِ بَقَرَةً، وَالدَّوْحَةُ: الشَّجَرَةُ الْعَظِيمَةُ، وَقَالَ عَطَاءٌ: فِي الشَّجَرَةِ دُونَهَا شَاةٌ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَالْقِيَاسُ أَوَّلًا مَا وُصِفَ فِيهِ أَنَّهُ يَفْدِيهِ مَنْ أَصَابَهُ بِقِيمَتِهِ قَالَ الشَّيْخُ: رُوِّينَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الرَّجُلِ يَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ، قَالَ: " فِي الْقَضِيبِ دِرْهَمٌ، وَفِي الدَّوْحَةِ بَقَرَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ ہم نے صرف رسول اللہ ﷺ سے قرآن اور جو اس صحیفہ میں موجود ہے تحریر کیا ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مدینہ کا عیر اور ثور کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔ جس نے اس میں کوئی بدعت کی یا بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ اس سے فرض و نفل قبول نہ کریں گے۔ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے، ان کا ادنیٰ بھی اس کے ذریعے کوشش کر سکتا ہے اور جس نے مسلمان سے بے وفائی کی، عہد توڑا، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ اس سے فرض و نفل کو بھی قبول نہ کرے گا اور جس نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے دوستی کی، اس پر بھی اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ ان سے فرض و نفل قبول نہ کریں گے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9950
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1771»