❮
❯
حدیث نمبر: 9948
وَرَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " حَرَامٌ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُخْتَلَى شَوْكَتُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو ⦗٣٢٠⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنا أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَكَرَهُ. وَقَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي مَسَاكِنِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ إِلَّا الْإِذْخِرَ " كَذَا قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ "، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ: " لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ "، وَرَوَاهُ شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " لَا يُخْبَطُ شَوْكُهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلَّا الْمُنْشِدُ "، وَكُلُّ ذَلِكَ يَرِدُ فِي مَوَاضِعِهِ مِنَ الْكِتَابِ إِنْ شَاءَ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(یہ) حرم ہے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے کانٹے دار پودے نہ کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز کو صرف اعلان کرنے والا ہی اٹھا سکتا ہے۔“
(ب) سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! سوائے «الْإِذْخِرَ» ”اذخر“ کے، کیوں کہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے، سوائے اذخر کے۔“
(ج) ولید بن مسلم اوزاعی سے نقل فرماتے ہیں کہ ”اس کا شکار نہ بھگایا جائے اور کانٹے نہ کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والے کے لیے حلال ہے۔“ اور ان سے ایک دوسری روایت میں ہے: ”اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کا شکار نہ بھگایا جائے اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والے کے لیے حلال ہے۔“
(د) شیبان یحییٰ سے بیان کرتے ہیں کہ ”اس کے کانٹوں کو نہ جھاڑا جائے، درخت نہ کاٹے جائیں اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9948
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي عروبه المناسك 26»