السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا ينفر صيد الحرم ولا يعضد شجره ولا يختلى خلاه إلا الإذخر باب: حرم کے شکار کو نہ بھگایا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کی گھاس اکھیڑی جائے سوائے اذخر (ایک قسم کی گھاس) کے۔
وَرَوَاهُ أَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً " أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنِ أَبِي شُرَيْحٍ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”درختوں کا کاٹنا، کانٹوں کا اکھاڑنا، جائز نہیں حرام ہے اور گری پڑی چیز کو صرف اعلان کرنے والا ہی اٹھا سکتا ہے۔“
(ب) سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! «الْإِذْخِرَ» ”اذخر“ کی اجازت دیں کیوں کہ یہ ہمارے گھروں اور قبروں میں کام آتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اذخر گھاس کی اجازت دے دی۔
(ج) مسلم بن ولید اوزاعی سے نقل فرماتے ہیں کہ ”اس کا شکار نہ بھگایا جائے اور کانٹے نہ اکھاڑے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا ہی اٹھا سکتا ہے۔“
(د) شیبان یحییٰ سے بیان کرتے ہیں کہ ”اس کے کانٹوں کو نہ روندا جائے، درخت نہ کاٹے جائیں اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے۔“