حدیث نمبر: 9947
وَرَوَاهُ أَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً " أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنِ أَبِي شُرَيْحٍ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”درختوں کا کاٹنا، کانٹوں کا اکھاڑنا، جائز نہیں حرام ہے اور گری پڑی چیز کو صرف اعلان کرنے والا ہی اٹھا سکتا ہے۔“
(ب) سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! «الْإِذْخِرَ» ”اذخر“ کی اجازت دیں کیوں کہ یہ ہمارے گھروں اور قبروں میں کام آتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اذخر گھاس کی اجازت دے دی۔
(ج) مسلم بن ولید اوزاعی سے نقل فرماتے ہیں کہ ”اس کا شکار نہ بھگایا جائے اور کانٹے نہ اکھاڑے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا ہی اٹھا سکتا ہے۔“
(د) شیبان یحییٰ سے بیان کرتے ہیں کہ ”اس کے کانٹوں کو نہ روندا جائے، درخت نہ کاٹے جائیں اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9947
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 112»