السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا ينفر صيد الحرم ولا يعضد شجره ولا يختلى خلاه إلا الإذخر باب: حرم کے شکار کو نہ بھگایا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کی گھاس اکھیڑی جائے سوائے اذخر (ایک قسم کی گھاس) کے۔
حدیث نمبر: 9946
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَالْبُسْرِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ "، وَقَالَ: فَإِنَّهُ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُوفِ بُيُوتِنَا وَزَادَ قَالَ عِكْرِمَةُ: هَلْ تَدْرِي مَا لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا أَنْ يُنَحِّيَهُ مِنَ الظِّلِّ وَيَنْزِلَ مَكَانَهُ؟، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان بندے کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے اور اس کے درختوں کو کاٹے۔“