السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا ينفر صيد الحرم ولا يعضد شجره ولا يختلى خلاه إلا الإذخر باب: حرم کے شکار کو نہ بھگایا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کی گھاس اکھیڑی جائے سوائے اذخر (ایک قسم کی گھاس) کے۔
حدیث نمبر: 9945
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ "، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَبُيُوتِنَا، قَالَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالوہاب رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ”یہ حلال کیا گیا اور یہ ہمارے لوہاروں اور ہمارے گھروں کی چھتوں کے لیے ہے“ اور عکرمہ رحمہ اللہ نے اضافہ کیا ہے کہ ”کیا جانتے ہو اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا کہ سایہ سے اس کو دور کر کے اس کی جگہ خود جانا۔“
(ب) محمد بن مثنیٰ رحمہ اللہ، عبدالوہاب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”اور ہماری قبروں کے لیے۔“