السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا ينفر صيد الحرم ولا يعضد شجره ولا يختلى خلاه إلا الإذخر باب: حرم کے شکار کو نہ بھگایا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کی گھاس اکھیڑی جائے سوائے اذخر (ایک قسم کی گھاس) کے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، قَالَ: وَأنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ، وَنِيَّةٌ فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا "، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ ⦗٣١٩⦘ مَكَّةَ: " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهَا إِلَّا مَنْ عَرَّفْهَا " فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا الْإِذْخَرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت نہیں سوائے جہاد کے اور نیت ہے، جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو تم نکلو۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”یہ شہر جس کو اللہ نے حرام قرار دیا، جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا تو اللہ کی حرمت کی وجہ سے وہ قیامت تک حرام ہی رہے گا۔ اس کا گھاس نہیں کاٹا جائے گا اور کانٹے دار درخت بھی نہ کاٹے جائیں گے، اس کا شکار بھگایا نہ جائے گا اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کروانے والا اٹھا سکتا ہے۔“
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! سوائے اذخر کے، کیونکہ وہ ان کے لوہاروں اور گھروں کے لیے ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے۔“