❮
❯
حدیث نمبر: 9943
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سُئِلَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحْرِمٍ ذَبَحَ صَيْدًا، قَالَ: " يَأْكُلُهُ وَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ، إِلْقَاؤُهُ فَسَادٌ " قَالَ حَمَّادٌ: وَكَانَ أَيُّوبُ يُعْجِبُهُ قَوْلُ عَمْرٍو هَذَا، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " هُوَ مَيْتَةٌ لَا يَأْكُلُهُ "، وَعَنْ عَطَاءٍ: " لَا يَأْكُلُهُ الْحَلَالُ "، وَعَنْ عَطَاءٍ: " إِذَا أَصَابَ صَيْدًا فَعَلَيْهِ فِدْيَةٌ، وَإِذَا أَكَلَهُ فَعَلَيْهِ قِيمَةُ مَا أَكَلَ " وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عَائِشَةَ، وَالْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالُوا فِي الصَّيْدِ يُذْبَحُ بِمَكَّةَ: " لَا يُؤْكُلُ "، قِيلَ: فَمَا يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: " يُطْرَحُ بِمَنْزِلَةِ الْمَيِّتِ "، وَفِي رِوَايَةِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَرِهُوا أَنْ يُذْبَحَ الصَّيْدُ الَّذِي يُصَادُ فِي الْحِلِّ فِي الْحَرَمِ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنَ، أَوِ الْحُسَيْنَ كَرِهُوا ذَبْحَ الصَّيْدِ بِمَكَّةَ وَلَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يُدْخَلَ بِهِ مَذْبُوحًا، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أَصَابَ الْحَلَالُ فِي الْحَرَمِ الصَّيْدَ حُكِمَ عَلَيْهِ كَمَا يُحْكَمُ عَلَى الْمُحْرِمِ "، قَالَ: " وَالْمُحْرِمُ إِذَا أَصَابَ فِي الْحَرَمِ فَعَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ

حماد بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے اس محرم کے بارے میں سوال کیا گیا جو شکار کو ذبح کر لیتا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اسے کھا لے اور اس پر بدلہ ہے اور اس کو پھینک دینا بگاڑ ہے، حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایوب رحمہ اللہ کو عمرو رحمہ اللہ کا یہ قول اچھا لگتا تھا۔
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ مردار ہے، اسے نہ کھائے۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حلال (آدمی) نہ کھائے اور حضرت عطاء رحمہ اللہ ہی سے منقول ہے کہ جب محرم شکار کرے تو اس پر فدیہ ہے، اور جب اس نے اسے کھایا تو جتنا کھایا اس کی قیمت اس پر ہوگی۔
(ج) ابن ابی لیلیٰ کی روایت میں حضرت عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مکہ میں ذبح کیے جانے والے شکار کے بارے میں فرمایا کہ اسے کھایا نہیں جائے گا۔ پوچھا گیا: اس کا کیا کیا جائے؟ انہوں نے کہا: اسے مردار کی طرح پھینک دیا جائے گا۔
(د) حجاج بن ارطاۃ کی روایت جو حضرت عطاء رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، انہوں نے اس بات کو مکروہ جانا کہ حرم سے باہر (حل میں) شکار کیے گئے جانور کو حرم میں ذبح کیا جائے۔
(ح) حجاج کی دوسری روایت میں ہے جو حضرت عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، یہ سب شکار کو مکہ میں ذبح کرنے کو ناپسند کرتے تھے، لیکن اسے ذبح شدہ حالت میں (مکہ میں) لانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(خ) حضرت عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حلال آدمی حرم میں شکار کرے تو اس کا حکم وہی ہوگا جو محرم کا ہوتا ہے، اور محرم آدمی جب حرم میں شکار کرے تو اس کو ایک کفارہ دینا پڑے گا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9943
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1737»