السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : المحرم لا يقبل ما يهدى له من الصيد حيا باب: محرم زندہ شکار کا تحفہ قبول نہیں کرے گا جو اسے دیا جائے۔
حدیث نمبر: 9941
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عبَدِ اللهِ بْنِ شَمَّاسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ لَحْمِ الصَّيْدِ يُهْدِيهِ الْحَلَالُ لِلْحَرَامِ فَقَالَتْ: " اخْتَلَفَ فِيهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَه بَعْضُهُمْ، وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ بَأْسًا وَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شماسہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور شکار کے گوشت کے متعلق سوال کیا جو حلال (غیر محرم) آدمی محرم کو تحفہ دیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کا اس میں اختلاف ہے، بعض تو ناپسند کرتے ہیں اور بعض اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔