السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : المحرم لا يقبل ما يهدى له من الصيد حيا باب: محرم زندہ شکار کا تحفہ قبول نہیں کرے گا جو اسے دیا جائے۔
حدیث نمبر: 9940
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ: " يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّمَا هِيَ عَشْرُ لَيَالٍ، فَإِنْ يَخْتَلِجْ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ " يَعْنِي أَكْلَ لَحْمِ الصَّيْدِ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شماسہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور شکار کے گوشت کے متعلق سوال کیا جو حلال مُحرِم کو تحفہ دیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کا اس میں اختلاف ہے، بعض تو ناپسند کرتے ہیں اور بعض اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، لیکن اس میں کوئی حرج نہیں۔