❮
❯
حدیث نمبر: 9939
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَكَانَ الْحَارِثُ خَلِيفَةَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الطَّائِفِ فَصَنَعَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَعَامًا، وَصَنَعَ فِيهِ مِنَ الْحَجَلِ وَالْيَعَاقِيبِ وَلُحُومِ الْوَحْشِ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَهُ الرَّسُولُ وَهُوَ يَخْبِطُ لِأَبَاعِرَ لَهُ فَجَاءَهُ وَهُوَ يَنْقُضُ الْخَبْطَ مِنْ يَدِهِ فَقَالُوا لَهُ: كُلْ، فَقَالَ: " أَطْعِمُوهُ قَوْمًا حَلَالًا فَإِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ " ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْشُدُ اللهَ مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ أَشْجَعَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَيْهِ رَجُلٌ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ وَتَأْوِيلُ هَذَيْنِ الْمُسْنَدَيْنِ مَا ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي تَأْوِيلِ حَدِيثِ مَنْ رَوَى فِي قِصَّةِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَيْهِ مِنْ لَحْمِ حِمَارٍ، وَأَمَّا عَلِيٌّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَإِنَّهُمَا ذَهَبَا إِلَى تَحْرِيمِ أَكْلِهِ عَلَى الْمُحْرِمِ مُطْلَقًا، وَقَدْ خَالَفَهُمَا عُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَغَيْرُهُمْ وَمَعَهُمْ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، وَجَابِرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

اسحاق بن عبداللہ بن حارث اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حارث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب سے طائف پر نائب تھے۔ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا بنایا۔ اس میں چکوروں، نر چکوروں اور جنگلی جانوروں کا گوشت شامل کیا، انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا، قاصد آیا تو وہ اپنے اونٹوں کے لیے پتے جھاڑ رہے تھے، وہ آئے تو اپنے ہاتھوں سے پتے جھاڑ رہے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا: کھائیے۔ انہوں نے فرمایا: حلال لوگوں کو کھلاؤ، ہم تو محرم لوگ ہیں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اشجع قبیلہ کے ہر اس شخص کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جو یہاں موجود ہے، کیا تم جانتے ہو کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو نیل گائے تحفہ میں دی جبکہ آپ ﷺ محرم تھے تو آپ ﷺ نے اسے کھانے سے انکار کر دیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
(ب) ان دونوں مسند روایتوں کی توجیہ وہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے قصہ میں اس شخص کی حدیث کی توجیہ میں ذکر کی ہے جس نے روایت کیا کہ انہوں نے گدھے کا گوشت تحفہ میں دیا تھا۔ رہے سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما تو ان دونوں کا موقف ہے کہ محرم کے لیے اس کا کھانا مطلق طور پر حرام ہے۔ ان دونوں کی مخالفت سیدنا عمر، عثمان، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہ نے کی ہے اور ان کے ساتھ سیدنا ابوقتادہ اور جابر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9939
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 787»