❮
❯
حدیث نمبر: 9936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ كَانَ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِمَارَ حَيًّا فَلَيْسَ لِمُحْرِمٍ ذَبْحُ حِمَارِ وَحْشٍ حَيٍّ، وَإِنْ كَانَ أَهْدَى لَهُ لَحْمًا فَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَلِمَ أَنَّهُ صِيدَ لَهُ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَإِيضَاحُهُ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَنَّ الصَّعْبَ أَهْدِيَ للنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا أَثْبَتُ مِنْ حَدِيثِ مَنْ حَدَّثَ أَنَّهُ أَهْدَى لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ الصَّعْبِ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو زندہ نیل گائے تحفہ میں دی تھی تو محرم کے لیے زندہ نیل گائے کو ذبح کرنا جائز نہیں، اور اگر انہوں نے گوشت تحفہ میں دیا تھا تو ممکن ہے کہ آپ ﷺ کو معلوم ہو کہ یہ آپ کے لیے شکار کیا گیا ہے، اس لیے آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا، جس کی وضاحت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کہ صعب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو گدھا تحفہ میں دیا، یہ زیادہ ثابت ہے اس حدیث سے جس میں بیان ہوا ہے کہ گدھے کا گوشت تحفہ میں دیا۔ واللہ اعلم۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اس سے کھایا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9936
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه ابن وهب كما في الفتح 4/ 32»