السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : المحرم لا يقبل ما يهدى له من الصيد حيا باب: محرم زندہ شکار کا تحفہ قبول نہیں کرے گا جو اسے دیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ ⦗٣١٦⦘ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ بِقُدَيْدٍ فَرَدَّهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو نیل گائے تحفہ میں دی، محرم کے لیے زندہ نیل گائے کو ذبح کرنا تو جائز نہیں اور اگر اس کو گوشت تحفہ میں دیا گیا تو اگر اسے معلوم ہو کہ اس نے اس کے لیے شکار کیا ہے تو وہ واپس کر دے جس کی وضاحت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کہ صعب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو گدھا تحفہ میں دیا، یہ زیادہ ثابت ہے اس حدیث سے جس میں بیان ہوا ہے کہ گدھے کا گوشت تحفہ میں دیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اس سے کھایا بھی تھا۔