السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : المحرم لا يقبل ما يهدى له من الصيد حيا باب: محرم زندہ شکار کا تحفہ قبول نہیں کرے گا جو اسے دیا جائے۔
حدیث نمبر: 9937
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ، أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَهُوَ بِالْجُحْفَةِ فَأَكَلَ مِنْهُ، وَأَكَلَ الْقَوْمُ " وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَكَأَنَّهُ رَدَّ الْحِيَّ، وَقِيلَ: اللَّحْمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں بتائیں جو نبی ﷺ کو تحفہ دیا گیا جب آپ ﷺ محرم تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کو شکار والے گوشت کا ایک حصہ تحفہ میں دیا گیا جو آپ ﷺ نے واپس کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں حالتِ احرام میں اس کو نہیں کھاتا۔“
(ب) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے شکار کے گوشت کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کو حالتِ احرام میں شکار کا گوشت دیا گیا جو آپ ﷺ نے واپس کر دیا۔