حدیث نمبر: 9861
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَدِيبُ الْبِسْطَامِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ بِخُسْرَوْجِرْدَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْغِطْرِيفِ، أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ هُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ سَمِعَ قَبِيصَةَ بْنَ جَابِرٍ الْأَسَدِيَّ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَكَثُرَ مِرَاؤُنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ أَيُّهُمَا أَسْرَعُ شَدًّا الظَّبْيُ أَمِ الْفَرَسُ؟ فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَنَحَ لَنَا ظَبْيٌ وَالسُّنُوحُ هَكَذَا يَقُولُ: مَرَّ يَجُزُّ عَنَّا عَنِ الشِّمَالِ، - قَالَهُ هَارُونُ بِالتَّشْدِيدِ - فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنَّا بِحَجَرٍ فَمَا أَخْطَأَ خُشَشَاءَهُ فَرَكِبَ رَدْعَهُ فَقَتَلَهُ فَأُسْقِطَ فِي أَيْدِينَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ انْطَلَقْنَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى فَدَخَلْتُ أَنَا وَصَاحِبُ الظَّبْيِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَذَكَرَ لَهُ أَمْرَ الظَّبْيِ الَّذِي قُتِلَ، وَرُبَّمَا وَقَالَ: فَتَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ أَنَا وَصَاحِبُ الظَّبْيِ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " عَمْدًا أَصَبْتَهُ أَمْ خَطَأً؟ "، وَرُبَّمَا قَالَ: فَسَأَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَيْفَ قَتَلْتَهُ عَمْدًا أَمْ خَطَأً؟ " فَقَالَ: لَقَدْ تَعَمَّدْتُ رَمْيَهُ وَمَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، زَادَ رَجُلٌ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَقَدْ شَرَكَ الْعَمْدُ الْخَطَأَ " ثُمَّ اجْتَنَحَ إِلَى رَجُلٍ وَاللهِ لَكَأَنَّ وَجْهَهُ قُلْبٌ يَعْنِي فِضَّةً وَرُبَّمَا قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ فَكَلَّمَهُ سَاعَةً، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى صَاحِبِي، فَقَالَ لَهُ: " خُذْ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ فَأَهْرِقْ دَمَهَا، وَأَطْعِمْ لَحْمَهَا " وَرُبَّمَا قَالَ: " فَتَصَدَّقْ بِلَحْمِهَا وَاسْقِ إِهَابَهَا سِقَاءً " فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ أَقْبَلْتُ عَلَى الرَّجُلِ فَقُلْتُ: أَيُّهَا الْمُسْتَفْتِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إنَّ فُتْيَا ابْنِ الْخَطَّابِ لَنْ تُغْنِيَ عَنْكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا وَاللهِ مَا عَلِمَ عُمَرُ حَتَّى سَأَلَ الَّذِي إِلَى جَنْبِهِ فَانْحَرْ رَاحِلَتَكَ فَتَصَدَّقْ بِهَا وَعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ، قَالَ: فَنَمَّا هَذَا ذُو الْعُوَيْنَتَيْنِ إِلَيْهِ وَرُبَّمَا قَالَ: فَانْطَلَقَ ذُو الْعُوَيْنَتَيْنِ إِلَى عُمَرَ فَنَمَّاهَا إِلَيْهِ، وَرُبَّمَا قَالَ: فَمَا عَلِمْتُ بِشَيْءٍ، وَاللهِ مَا شَعَرْتُ إِلَّا بِهِ يَضْرِبُ بِالدِّرَّةِ عَلَيَّ وَقَالَ مَرَّةً عَلَى صَاحِبِي صَفُوقًا صَفُوقًا ثُمَّ قَالَ: " قَاتَلَكَ اللهُ تَعَدَّى الْفُتْيَا وَتَقْتُلُ الْحَرَامَ، وَتَقُولُ: وَاللهِ مَا عَلِمَ عُمَرُ حَتَّى سَأَلَ الَّذِي إلَى جَنْبِهِ، أَمَا تَقْرَأُ كِتَابَ اللهِ فَإِنَّ اللهَ يَقُولُ: {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [سورة: المائدة، آية رقم: ٩٥] " ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ رِدَائِي وَرُبَّمَا قَالَ: ثَوْبِي فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَكَ مِنِّي أَمْرًا حَرَّمَهُ اللهُ عَلَيْكَ فَأَرْسَلَنِي، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: " إِنِّي أَرَاكَ شَابًّا فَصِيحَ اللِّسَانِ فَسِيحَ الصَّدْرِ وَقَدْ يَكُونُ فِي الرَّجُلِ عَشَرَةُ أَخْلَاقٍ تِسْعٌ حَسَنَةٌ " وَرُبَّمَا قَالَ: " صَالِحَةٌ وَوَاحِدَةٌ سَيِّئَةٌ فَيُفْسِدُ الْخُلُقُ السَّيِّيءُ التِّسْعَ الصَّالِحَةَ، فَاتَّقِ طَيْرَاتِ الشَّبَابِ "، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْهُ أَلِفًا وَلَا وَاوًا.
حافظ ثناء اللہ

عبدالملک بن عمیر نے قبیصہ بن جابر اسدی سے سنا، وہ کہتے ہیں: ہم حج کے لیے نکلے اور ہم سب سے زیادہ با مروت لوگ تھے اور ہم محرم بھی تھے۔ ”ہرن زیادہ تیز دوڑتا ہے یا گھوڑا؟“ ہم یہی باتیں کر رہے تھے کہ ہرن سامنے آ گیا، اور «سُنُوحٌ» کا لفظ بھی اسی طرح ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ہم سے شمال کی طرف گزر گیا۔ ہارون نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ہم میں سے ایک آدمی نے اسے پتھر مارا۔ اس کا نشانہ خطا نہ ہوا اور وہ اسے دھمکا رہا تھا۔ اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ ہمارے سامنے گر گیا۔ جب ہم مکہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس منیٰ میں گئے۔ میں اور ہرن والا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو اس نے ہرن کے مارنے کا قصہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا، اور کبھی راوی کہتے ہیں کہ میں اور ہرن والا آگے بڑھے اور ان کے سامنے قصہ بیان کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”جان بوجھ کر ایسا کیا یا غلطی سے؟“ بعض اوقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سے سوال کرتے: ”کیا تو نے جان بوجھ کر اسے قتل کیا ہے یا غلطی سے؟“ اس نے کہا: ”تیر تو جان بوجھ کر مارا تھا، لیکن قتل کا ارادہ نہ کیا تھا۔“ جب اس شخص نے زیادہ تفصیل بیان کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”عمد اور خطا دونوں مل گئے۔“ پھر آپ ایک آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، اللہ کی قسم! اس کا چہرہ چاندی کی طرح چمک رہا تھا۔ بعض اوقات راوی یہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ نے اس آدمی کو بلا کر اس سے کلام کی۔ پھر آپ میرے ساتھی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”ایک بکری لے کر ذبح کرو اور اس کا گوشت کھلاؤ۔“ کبھی فرماتے: ”اس کا گوشت صدقہ کرو اور اس کے چمڑے کا مشکیزہ بنا کر پانی پلایا کرو۔“ جب ہم ان کے پاس سے نکلے تو میں اس آدمی کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے کہا: ”اے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فتویٰ پوچھنے والے! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ اللہ کے ہاں تجھے کچھ کفایت نہ کرے گا؛ کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو خود نہیں جانتے تھے بلکہ وہ اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھ رہے تھے۔ تم اپنی سواری کو ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو اور اللہ کے شعائر کی تعظیم کیا کرو۔“ راوی کہتے ہیں: وہ چشمے والا ان کی طرف آگے بڑھا۔ بعض اوقات بیان کرتے ہیں کہ وہ چشمے والا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور بعض اوقات (قبیصہ) کہتے ہیں: میں کچھ نہیں جانتا تھا، اللہ کی قسم! میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ مجھے کوڑے مارنے لگے اور بعض اوقات میرے ساتھی کے رخسار پر مارتے تھے۔ پھر فرمایا: ”اللہ تجھے قتل کرے! تو نے فتویٰ میں زیادتی کی اور تو نے (احرام میں) شکار کو قتل کر دیا اور تو کہتا ہے: اللہ کی قسم! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جانتے ہی نہیں، جب تک وہ اپنے پہلو میں بیٹھے شخص سے سوال نہ کر لیں؟ کیا تو نے اللہ کی کتاب نہیں پڑھی؟“ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 95] ”تم میں سے دو عادل آدمی اس کا فیصلہ کریں۔“ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور میری تہہ شدہ چادر کو پکڑا، اور بعض اوقات راوی کہتے ہیں کہ میرے کپڑے کو پکڑا۔ میں نے کہا: ”اے امیر المومنین! میں اپنی طرف سے کسی ایسے کام کو آپ کے لیے جائز قرار نہیں دے سکتا جسے اللہ نے آپ پر حرام کیا ہے۔“ تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: ”میں تجھے فصیح زبان والا اور کشادہ سینے والا نوجوان خیال کرتا ہوں، بسا اوقات انسان میں نو عادتیں ہوتی ہیں، نو کی نو اچھی (صالحہ) ہوتی ہیں، اور ایک عادت بری ہوتی ہے، وہ ایک بری عادت ان نو اچھی عادتوں کو بھی خراب کر دیتی ہے، لہٰذا جوانی کی آفات سے بچو۔“ ابن ابی عمر اور سفیان کہتے ہیں کہ عبدالملک جب یہ حدیث بیان کرتے تو کہتے: ”میں نے الف اور واؤ کو بھی نہیں چھوڑا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9861
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8240»