السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: دخول مكة بغير إرادة حج ولا عمرة باب: حج یا عمرے کے ارادے کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا ⦗٢٨٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُعَاذٌ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا: إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ (ك ف ر) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ قَالَ: " أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَدِ انْحَدَرَ مِنَ الْوَادِي يُلَبِّي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ.مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا اور کہنے لگے کہ اس کی آنکھوں کے درمیان (ک ف ر) لکھا ہوگا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ میں نے یہ بات آپ ﷺ سے اس طرح نہیں سنی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بہرحال سیدنا ابراہیم علیہ السلام تو تم اپنے ساتھی کی جانب دیکھو اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام تو وہ گندمی رنگ، گھنگریالے بالوں والے، سرخ اونٹ پر سوار تھے جس کو کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی مضبوط رسی سے لگام دی ہوئی ہے، گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وادی سے نیچے اتر رہے ہیں اور تلبیہ پکار رہے ہیں۔“