حدیث نمبر: 9833
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ، قَالَ: " رَبِّ قَدْ فَرَغْتُ "، فَقَالَ: " أَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ "، قَالَ: " رَبِّ وَمَا يَبْلُغُ صَوْتِي؟ "، قَالَ: " أَذِّنْ وَعَلَيَّ الْبَلَاغُ "، قَالَ: " رَبِّ كَيْفَ أَقُولُ؟ " قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ حَجُّ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ "، فَسَمِعَهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَجِيئُونَ مِنْ أَقْصَى الْأَرْضِ يُلَبُّونَ؟.
حافظ ثناء اللہ

ابن ابی ظبیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کو بنانے سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے: ”اے میرے رب! میں فارغ ہو گیا ہوں“، تو اللہ رب العزت نے فرمایا: ”لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔“ کہنے لگے: ”اے میرے رب! میری آواز نہ پہنچ سکے گی۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اعلان تم کرو، آواز میں پہنچا دوں گا۔“ کہنے لگے: ”اے میرے رب! میں کیا کہوں؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کہو: اے لوگو! اللہ نے تمہارے اوپر بیت اللہ کے حج کو فرض کر دیا ہے۔“ ان کی آواز کو آسمان و زمین کے درمیان رہنے والوں نے سن لیا، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ زمین کے کناروں سے تلبیہ کہتے ہوئے آتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9833
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه الحاكم 2/ 421»