السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: دخول مكة بغير إرادة حج ولا عمرة باب: حج یا عمرے کے ارادے کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9835
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوسَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْبَكْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ مَوْضِعُ الْبَيْتِ فِي زَمَنِ آدَمَ شِبْرًا، أَوْ أَكْثَرَ عِلْمًا، فَكَانَتِ الْمَلَائِكَةُ تَحُجُّهُ قَبْلَ آدَمَ، ثُمَّ حَجَّ آدَمُ فَاسْتَقْبَلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَقَالُوا: يَا آدَمُ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: حَجَجْتُ الْبَيْتَ، فَقَالُوا: قَدْ حَجَّتْهُ الْمَلَائِكَةُ قَبْلَكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام کے دور میں بیت اللہ کی جگہ ایک بالشت یا زیادہ تھی بطور علامت و نشانی، فرشتے آدم علیہ السلام سے پہلے اس کا حج کرتے تھے۔ پھر آدم علیہ السلام نے اس کا حج کیا تو فرشتے آدم علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: اے آدم! آپ کہاں سے آئے؟ فرمانے لگے: میں نے بیت اللہ کا حج کیا ہے، انہوں نے کہا: آپ سے پہلے فرشتوں نے اس کا حج کیا ہے۔“