السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: دخول مكة بغير إرادة حج ولا عمرة باب: حج یا عمرے کے ارادے کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9832
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ} [الحج: ٢٧] قَالَ: لَمَّا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّكُمُ اتَّخَذَ بَيْتًا وَأَمَرَكُمْ أَنْ تَحُجُّوهُ، فَاسْتَجَابَ لَهُ مَا سَمِعَهُ مِنْ حَجَرٍ، أَوْ شَجَرٍ، أَوْ أَكَمَةٍ، أَوْ تُرَابٍ، أَوْ شَيْءٍ فَقَالُوا: لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ﴾ [سورة الحج: 27] کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں تو انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے رب نے گھر بنوایا ہے اور وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اس کا حج کرو۔“ ان کی آواز یا دعوت کو ہر پتھر، درخت، گھاس، مٹی اور ہر چیز جس نے بھی سنا، اسے قبول کیا۔ انہوں نے کہا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» ”اے اللہ! ہم حاضر ہیں، اے اللہ! ہم حاضر ہیں۔“