السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: دخول مكة بغير إرادة حج ولا عمرة باب: حج یا عمرے کے ارادے کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9831
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {مَثَابَةً لِلنَّاسِ} [البقرة: ١٢٥] يَقُولُ: " لَا يَقْضُونَ مِنْهُ وَطَرًا أَبَدًا "، {وَأَمْنًا} [البقرة: ١٢٥] يَقُولُ: " لَا يَخَافُ مَنْ دَخَلَهُ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿مَثَابَةً لِّلنَّاسِ﴾ [سورة البقرة: 125] سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے (دنیاوی) مقاصد حاصل نہیں کرتے، اور «أَمْنًا» سے مراد یہ ہے کہ جو شہر مکہ میں داخل ہو جاتا ہے، وہ خوف نہیں کھاتا۔