السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: دخول مكة بغير إرادة حج ولا عمرة باب: حج یا عمرے کے ارادے کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان۔
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا} [البقرة: 125] الْآيَةَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْمَثَابَةُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ الْمَوْضِعُ يَثُوبُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَيَؤُبُونَ يَعُودُونَ إِلَيْهِ بَعْدَ الذَّهَابِ عَنْهُ، وَقَدْ يُقَالُ: ثَابَ إِلَيْهِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ.اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا﴾ ”اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے بار بار لوٹنے کی جگہ اور امن کا مقام بنایا۔“ [سورة البقرة: 125] (آخر آیت تک)۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عرب کے کلام میں لفظ «الْمَثَابَةُ» سے مراد وہ جگہ ہے جہاں لوگ بار بار لوٹ کر آتے ہیں اور وہاں سے جانے کے بعد پھر لوٹتے ہیں، اور یوں بھی کہا جاتا ہے: «ثَابَ إِلَيْهِ» یعنی وہ اس جگہ مجتمع ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّقَّاءِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا} [البقرة: ١٢٥] قَالَ: " يَثُوبُونَ إِلَيْهِ، وَيَذْهَبُونَ وَيَرْجِعُونَ لَا يَقْضُونَ مِنْهُ وَطَرًا ".ابو حجاج مجاہد بن جبر رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا﴾ [سورة البقرة: 125] کے بارے میں منقول ہے: ”اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے لوٹنے کی جگہ (یا ثواب کی جگہ) اور امن کی جگہ بنایا۔“ فرماتے ہیں: وہ اس سے ثواب حاصل کرتے ہیں اور جاتے ہیں اور واپس آتے ہیں لیکن دنیوی مقصد حاصل نہیں کرتے۔