السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المفسد لعمرته يقضيها من حيث أحرم ما أفسد وكذلك المفسد لحجه باب: اپنے عمرے کو فاسد کرنے والا اس کی قضا وہیں سے کرے جہاں سے اس نے فاسد کیے گئے عمرے کا احرام باندھا تھا، اور اپنے حج کو فاسد کرنے والے کا بھی یہی حکم ہے۔
رُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مُحْرِمٍ بِحَجَّةٍ أَصَابَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ مُحْرِمَةٌ، قَالَ: " يَقْضِيَانِ حَجَّهُمَا وَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ مِنْ حَيْثُ كَانَا أَحْرَمَا " وَرُوِّينَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَمَّا مَنْ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ عَائِشَةَ رَفَضَتْ عُمْرَتَهَا ثُمَّ أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ تَقْضِيَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ فَقَدْ دَلَّلْنَا فِيمَا مَضَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَهَا بِإِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ فَكَانَتْ قَارِنَةً، وَإِنَّمَا كَانَتْ عُمْرَتُهَا شَيْئًا اسْتَحَبَّتْهُ.ہمیں عطاء سے، انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں روایت کیا گیا ہے جو حالتِ احرامِ حج میں ہو اور اپنی بیوی سے صحبت کر لے جبکہ وہ بھی احرام میں ہو، آپ نے فرمایا: ”وہ دونوں اپنے اس حج کو پورا کریں اور ان پر آئندہ سال اسی جگہ سے حج کرنا فرض ہے جہاں سے انہوں نے (پہلے) احرام باندھا تھا۔“
اور یہی مضمون ہمیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا گیا ہے۔
رہے وہ لوگ جو اس بات کی طرف گئے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا عمرہ فسخ (ترک) کر دیا تھا پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں تنعیم سے اس کی قضا کرنے کا حکم دیا تھا، تو ہم نے سابقہ دلائل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں صرف عمرے پر حج داخل کرنے کا حکم دیا تھا جس کی بنا پر وہ قارنہ (قران کرنے والی) بن گئی تھیں، اور (بعد میں تنعیم سے) ان کا عمرہ کرنا محض ایک ایسا عمل تھا جسے انہوں نے پسند فرمایا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَكْفِيكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ ".عطاء سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی تیرے حج و عمرہ کے لیے کافی ہے۔“