السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفسد الحج باب: ان امور کا بیان جو حج کو فاسد کر دیتے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو فَسَأَلَهُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، قَالَ: فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: " إِنْ يَكُنْ أَحَدٌ يُخْبِرُهُ فِيهَا بِشَيْءٍ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " يَقْضِيَانِ مَا بَقِيَ مِنْ نُسُكِهِمَا فَإِذَا كَانَ قَابِلٌ حَجَّا، فَإِذَا أَتَيَا الْمَكَانَ الَّذِي أَصَابَا فِيهِ مَا أَصَابَا تَفَرَّقَا وَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا هَدْيٌ " أَوْ قَالَ: " عَلَيْهِمَا الْهَدْيُ " قَالَ أَبُو بِشْرٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: هَكَذَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ.ابو بشر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بنو عبدالدار قبیلہ کے ایک آدمی سے سنا کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے محرم آدمی کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے تو انہوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر اس کے بارے میں کچھ بتادیں تو وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا کے بیٹے ہیں، راوی بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ حج کے باقی مناسک ادا کریں لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کریں، لیکن جب اس جگہ آئیں جہاں پر ان سے گناہ سر زد ہوا تھا تو وہاں سے جدا ہوجائیں اور ان دو میں سے ہر ایک پر قربانی ہے یا فرمایا: ان دونوں پر قربانی لازم ہے۔ ابو بشر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بیان کیا تو وہ کہنے لگے: ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی فرماتے تھے۔