حدیث نمبر: 9783
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: أَخْبَرَنِي وَقَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يَسْأَلُهُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَةٍ فَأَشَارَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: " اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ فَسَلْهُ " قَالَ شُعَيْبٌ: فَلَمْ يَعْرِفْهُ الرَّجُلُ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: " بَطُلَ حَجُّكَ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَمَا أَصْنَعُ؟، قَالَ: " اخْرُجْ مَعَ النَّاسِ وَاصْنَعْ مَا يَصْنَعُونَ، فَإِذَا أَدْرَكْتَ قَابِلًا فَحُجَّ وَأَهْدِ "، فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَلْهُ، قَالَ شُعَيْبٌ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ قَالَ: مَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ: " قَوْلِي مِثْلُ مَا قَالَا " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ سَمَاعِ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے محرم کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی سے جماع کر لیتا ہے تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ کر دیا کہ ان سے پوچھو! شعیب کہتے ہیں کہ وہ ان کو جانتا نہ تھا، میں اس کے ساتھ گیا تو اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو فرمانے لگے: تیرا حج باطل ہے، تو آدمی کہنے لگا: پھر میں کیا کروں؟ فرمانے لگے: لوگوں کے ساتھ نکل کر ویسا ہی کرو جیسا لوگ کر رہے ہیں۔ جب آئندہ سال ہو تو حج اور قربانی کرنا۔ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی طرف واپس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے ان کو بتایا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اس کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف روانہ کیا کہ ان سے سوال کرو تو شعیب فرماتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا۔ اس نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح جواب دیا، پھر وہ دوبارہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا تو جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا تھا مکمل بتا دیا۔ پھر اس نے کہا: آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: جو ان دو (یعنی ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا، وہی میں کہتا ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9783
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه ابن شيبه 1085»