السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفسد الحج باب: ان امور کا بیان جو حج کو فاسد کر دیتے ہیں۔
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً أنَّ أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ زِيَادٍ، أَخْبَرَهُمْ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا، وَامْرَأَتَهُ مِنْ قُرَيْشٍ لَقِيَا ابْنَ عَبَّاسٍ بِطَرِيقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَمَّا حَجُّكُمَا هَذَا فَقَدْ بَطُلَ فَحُجَّا عَامًا قَابِلًا، ثُمَّ أَهِلَّا مِنْ حَيْثُ أَهْلَلْتُمَا حَتَّى إِذَا بَلَغْتُمَا حَيْثُ وَقَعْتَ عَلَيْهَا فَفَارِقْهَا فَلَا تَرَاكَ وَلَا تَرَاهَا حَتَّى تَرْمِيَا الْجَمْرَةَ وَأَهْدِ نَاقَةً، وَلْتُهْدِ نَاقَةً ".ابوزبیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نے ان کو خبر دی کہ قریش کا ایک مرد اور عورت مدینہ کے راستے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملے، اس شخص نے کہا: میں اپنی بیوی سے مجامعت کر چکا ہوں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تمہارا یہ حج باطل ہے اور آئندہ سال حج کرنا، پھر وہیں سے تلبیہ کہنا جہاں سے تم نے شروع کیا تھا، جب تم اس جگہ پہنچ جاؤ جہاں پر تم سے گناہ سرزد ہوا تھا تو پھر اپنی بیوی سے جدا ہو جانا، تو اس کو (بیوی) نہ دیکھے اور تیری بیوی تجھے نہ دیکھ سکے، جب تک تم رمی نہ کر لو، پھر ایک قربانی پیش کرنا اور تمہاری بیوی بھی۔