السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفسد الحج باب: ان امور کا بیان جو حج کو فاسد کر دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9782
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، قَالَ: " اقْضِيَا نُسُكَكُمَا وَارْجِعَا إِلَى بَلَدِكُمَا فَإِذَا كَانَ عَامُ قَابِلٍ فَاخْرُجَا حَاجَّيْنِ، فَإِذَا أَحْرَمْتُمَا فَتَفَرَّقَا وَلَا تَلْتَقِيَا حَتَّى تَقْضِيَا نُسُكَكُمَا وَأَهْدِيَا هَدْيًا " وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ " ثُمَّ أَهِلَّا مِنْ حَيْثُ أَهْلَلْتُمَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو حالتِ احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لیتا ہے کہ وہ دونوں حج کے مناسک پورے کر کے اپنے شہر کو واپس پلٹیں، لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کے لیے نکلیں، جب دونوں احرام باندھ لیں تو پھر ایک دوسرے سے حج کے پورا کرنے اور قربانی کرنے تک ملاقات نہ کریں۔
(ب) ابوطفیل رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ پھر وہ وہاں سے تلبیہ کہیں جہاں سے انہوں نے پہلی مرتبہ کہا تھا۔