السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يفسد الحج باب: ان امور کا بیان جو حج کو فاسد کر دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9781
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهِ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْفَقِيهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا، عَنِ الْمُحْرِمِ يُوَاقِعُ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: كَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " يَقْضِيَانِ حَجَّهُمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَجِّهِمَا، ثُمَّ يَرْجِعَانِ حَلَالًا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ فَإِذَا كَانَا مِنْ قَابِلٍ حَجَّا وَأَهْدَى وَتَفَرَّقَا فِي الْمَكَانِ الَّذِي أَصَابَهَا ".حافظ ثناء اللہ
یزید بن یزید بن جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس محرم کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھتا ہے تو انہوں نے فرمایا: ایسا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا، فرماتے ہیں: یہ دونوں (میاں بیوی) اپنے حج کو پورا کریں گے۔ (واللہ اعلم) اللہ ان کے حج کے بارے میں خوب جانتا ہے، پھر جب وہ واپس آئیں گے تو دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں، لیکن جب آئندہ سال ہوگا تو دونوں (میاں بیوی) دوبارہ حج کریں گے اور قربانی کریں گے اور اسی جگہ سے جدا ہوں گے جس جگہ ان سے گناہ سرزد ہوا تھا۔