السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من كره أن يقال للمحرم: صفر، وأن النسيء من أمر الجاهلية باب: ان کا بیان جنہوں نے ماہِ محرم کو ”صفر“ کہنے کو مکروہ قرار دیا، اور اس بات کا بیان کہ نسیء (مہینوں کو آگے پیچھے کرنا) ایامِ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ ⦗٢٧٢⦘ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حِكَايَةً عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ {إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ} [التوبة: ٣٧] قَالَ: حَجُّوا فِي ذِي الْحِجَّةِ عَامَيْنِ، ثُمَّ حَجُّوا فِي الْمُحَرَّمِ عَامَيْنِ فَكَانُوا يَحُجُّونَ فِي كُلِّ سَنَةٍ فِي كُلِّ شَهْرٍ عَامَيْنِ حَتَّى وَافَقَتْ حَجَّةُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْآخِرَ مِنَ الْعَامَيْنِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ قَبْلَ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَنَةٍ، ثُمَّ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَابِلٍ فِي ذِي الْحِجَّةِ فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ: " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ".ابوعبداللہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 37] ”مہینہ کا سرکا دینا اور زیادہ کفر ہے۔“ انہوں نے ذوالحجہ میں دو سال حج کیا۔ پھر دو سال محرم میں حج کیا۔
پھر انہوں نے ہر سال ایک مہینہ (یعنی محرم یا ذوالحجہ) میں دو سال تک حج کیا، پھر آخری دو سالوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حج ذی القعدہ میں ہوا۔ نبی ﷺ کے حج سے ایک سال پہلے، پھر نبی ﷺ نے آئندہ سال ذی الحجہ میں حج ادا کیا، اس وقت نبی ﷺ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ ”زمانہ اپنی اصلی حالت میں واپس آگیا ہے جب سے اللہ رب العزت نے آسمانوں و زمین کو پیدا فرمایا ہے۔“