السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من كره أن يقال للمحرم: صفر، وأن النسيء من أمر الجاهلية باب: ان کا بیان جنہوں نے ماہِ محرم کو ”صفر“ کہنے کو مکروہ قرار دیا، اور اس بات کا بیان کہ نسیء (مہینوں کو آگے پیچھے کرنا) ایامِ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔
قَالَ: أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: فَأَمَّا الزُّهْرِيُّ فَحُكِيَ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي مُؤَذِّنِينَ يَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًى " أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ إِسْنَادُهُ إِسْنَادٌ جَيِّدٌ، وَإِنَّمَا كَانَتْ حَجَّةُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذِي الْحِجَّةِ عَلَى مَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: قَدْ نَزَلَتْ سُورَةُ بَرَاءَةَ قَبْلَ حَجَّةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَفِيهَا {إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ} [التوبة: ٣٧]، وَفِيهَا {إنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا} [التوبة: ٣٦] فَهَلْ كَانَ يَجُوزُ أَنْ يَحُجَّ أَبُو بَكْرٍ عَلَى حَجِّ الْعَرَبِ وَقَدْ أَخْبَرَ اللهُ أَنَّ فِعْلَهُمْ ذَلِكَ كَانَ كُفْرًا؟.حمید بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کے موقع پر قربانی کے دن منیٰ کے میدان میں اعلان کرنے کے لیے روانہ کیا کہ ”آئندہ سال مشرک حج نہ کریں اور نہ ہی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کیا جائے۔“
(ب) ابوعبداللہ فرماتے ہیں کہ زہری کی حدیث کی سند جید ہے، لیکن اس میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حج ذوالحجہ میں تھا۔ ابوعبداللہ فرماتے ہیں کہ سورہ براءت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حج سے پہلے نازل ہوئی، اس میں ہے: ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 37] ”مہینہ کا سرکا دینا اور زیادہ کفر ہے“ اس میں ہے: ﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا﴾ [سورة التوبة: 36] ”اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ماہ ہے۔“ کیا یہ جائز ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج عرب کے (قدیم) طریقہ پر کیا ہو جب کہ اللہ نے ان کے فعل کو کفر قرار دیا ہے؟