حدیث نمبر: 9775
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " الرَّفَثُ: الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي، وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ، يَقُولُ: " لَيْسَ هُوَ شَهْرًا يُنْسَأُ قَدْ تَبَيَّنَ الْحَجُّ لَا شَكَّ فِيهِ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُسْقِطُونَ الْمُحَرَّمَ ثُمَّ يَقُولُونَ صَفَرٌ بِصَفَرٍ، وَيُسْقِطُونَ شَهْرَ رَبِيعٍ الْأَوَّلَ ثُمَّ يَقُولُونَ: شَهْرُ رَبِيعٍ بِشَهْرِ رَبِيعٍ " قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفُوا فِي حَجِّ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَبْلَ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كَانَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ أَوْ فِي ذِي الْحِجَّةِ؟، فَذَهَبَ مُجَاهِدٌ إِلَى أَنَّهُ وَقَعَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَذَهَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى أَنَّهُ وَقَعَ فِي ذِي الْحِجَّةِ.
حافظ ثناء اللہ

ابو نجیح، مجاہد رحمہ اللہ سے ﴿الرَّفَثُ﴾ اور ﴿الْفُسُوقُ﴾ [سورة البقرة: 197] کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ «الرَّفَثُ» سے مراد جماع ہے، «الْفُسُوقُ» سے مراد نافرمانی ہے اور ایامِ حج میں جھگڑا نہیں۔ فرماتے ہیں کہ یہ ایسا مہینہ نہیں جس کو مقدم اور مؤخر کریں، بلکہ حج کا مہینہ واضح ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ محرم کے مہینے کو ویسے گرا دیتے تھے یعنی ساقط کر دیتے۔ پھر وہ کہتے: صفر تو صفر کے بدلے میں ہے اور کبھی ماہِ ربیع الاول کو ساقط کر دیتے اور ربیع الثانی کا نام دے دیتے۔
شیخ فرماتے ہیں: نبی ﷺ کے حج سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حج کے بارے میں اختلاف ہے کہ انہوں نے ذی القعدہ یا ذی الحجہ میں حج کیا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ذی القعدہ میں انہوں نے حج کیا، جب کہ بعض کے نزدیک ذوالحجہ ہی میں حج کیا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9775
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن شيبه 13226»