السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ترك الحائض الوداع باب: حائضہ عورت کا طوافِ وداع ترک کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: " تُقِيمُ حَتَّى تَطْهُرَ وَيَكُونُ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِذَا كَانَتْ قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ فَلْتَنْفِرْ "، فَأَرْسَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنِّي وَجَدْتُ الَّذِي قُلْتَ كَمَا قُلْتَ "، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَقُولَ بِمَا فِي كِتَابِ اللهِ "، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٢٩] فَقَدْ قَضَتِ التَّفَثَ وَوَفَّتِ النَّذْرَ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ فَمَا بَقِيَ؟ ".عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ ٹھہری رہے حتیٰ کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس گزرے“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب وہ یومِ نحر کو طواف کر چکی ہو تو چلی جائے“ تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا کہ جو بات آپ نے کہی ہے وہ میں نے ویسے ہی پائی ہے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ﷺ کا قول عورتوں کے لیے جانتا ہوں لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کتاب اللہ کی رو سے بات کروں“، پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [سورة الحج: 29] ”پھر وہ اپنی نذروں کو پورا کریں اور پرانے گھر کا طواف کریں، اس نے میل کچیل بھی اتار لی اور نذر پوری کی اور بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا، اب کیا باقی ہے؟“