حدیث نمبر: 9750
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاضَتْ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ " قِيلَ: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، قَالَ: " فَلَا إِذًا " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ وَابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی بیوی صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں تو نبی ﷺ کو یہ بات بتائی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ ہمیں روکنے والی ہے؟“ کہا گیا کہ اس نے طوافِ افاضہ کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر نہیں۔“
حدیث نمبر: 9751
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ ⦗٢٦٥⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُمَا أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاضَتْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى بَعْدَمَا أَفَاضَتْ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ صَفِيَّةَ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ " فَقُلْتُ: أَمَا إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ يَا رَسُولَ اللهِ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلْتَنْفِرْ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! صفیہ حائضہ ہو گئی ہے، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ ہمیں روکنے والی ہے؟“ تو میں نے کہا: اس نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ نکلے۔“
حدیث نمبر: 9752
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَغَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: طَمِثَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ طَاهِرًا وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ وَهِيَ طَاهِرَةٌ ثُمَّ طَمِثَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلْتَنْفِرْ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا افاضہ کے بعد حائضہ ہو گئیں، میں نے یہ بات نبی ﷺ سے کہی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ ہمیں روکنے والی ہے؟“ تو میں نے کہا: انہوں نے طہر کی حالت میں افاضہ کر لیا تھا اور بعد میں حائضہ ہوئی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر وہ کوچ کرے۔“
حدیث نمبر: 9753
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلْتَنْفِرْ إِذًا ".
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ صفیہ رضی اللہ عنہا افاضہ کے بعد حائضہ ہو گئی تھیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ ہمیں روکنے والی ہے؟“ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے افاضہ کیا ہے، اس کے بعد وہ حائضہ ہوئی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر وہ لوٹے۔“
حدیث نمبر: 9754
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَقِيلَ: إِنَّهَا قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا " قِيلَ: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، قَالَ: " فَلَا إِذًا " قَالَ مَالِكٌ: قَالَ هِشَامٌ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَنَحْنُ نَذْكُرُ ذَلِكَ فَلِمَ يُقَدِّمُ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ إِنْ كَانَ لَا يَنْفَعُهُمْ؟ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ الَّذِي يَقُولُ لَأَصْبَحَ بِمِنًى أَكْثَرُ مِنْ سِتَّةِ آلَافِ امْرَأَةٍ حَائِضٍ كُلُّهُنَّ قَدْ أَفَضْنَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا ذکر فرمایا تو کہا گیا کہ وہ حائضہ ہو چکی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید کہ وہ ہمیں روکنے والی ہے۔“ کہا گیا کہ اس نے افاضہ کر لیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر نہیں۔“ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم اس بات کا ذکر کرتے ہیں، اگر یہ بات ان کو فائدہ نہیں دیتی تو وہ اپنی عورتوں کو کیوں آگے بھیجتے ہیں؟ اور اگر ایسی بات ہوتی تو منیٰ میں چھ ہزار حائضہ عورتیں ہوتیں، سب افاضہ کر چکی ہوتیں۔
حدیث نمبر: 9755
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، بِطُوسَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗٢٦٦⦘ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ فَرَأَى صَفِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً، أَوْ حَزِينَةً؛ لِأَنَّهَا حَاضَتْ، فَقَالَ لَهَا: " عَقْرَى حَلْقَى " لُغَةُ، قُرَيْشٍ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا "، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا كُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟ " يَعْنِي الطَّوَافَ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَانْفِرِي إِذًا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر غمزدہ و پریشان کھڑی ہیں کیوں کہ وہ حائضہ ہو چکی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «عَقْرَىٰ حَلْقَىٰ» ”بانجھ گنجی! (قریش کی لغت میں)، تو ہمیں روکنے والی ہے“، پھر فرمایا: ”کیا تو نے یومِ نحر کو افاضہ نہیں کیا تھا؟“ (یعنی طواف)۔ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر کوچ کر۔“
حدیث نمبر: 9756
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا " وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ: " لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ؟ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " فَاخْرُجْنَ " وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ: " فَاخْرُجِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ صفیہ بنت حیی حائضہ ہو گئی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید کہ وہ ہمیں روک دے گی“ اور عبداللہ کی روایت میں ہے: ”شاید کہ وہ ہمیں روکنے والی ہے، کیا اس نے تمہارے ساتھ بیت اللہ کا طواف نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ نکلیں“ اور عبداللہ کی روایت میں ہے کہ: ”تو نکل۔“
حدیث نمبر: 9757
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ " أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ إِذَا حَجَّتْ مَعَهَا نِسَاؤُهَا تَخَافُ أَنْ يَحِضْنَ قَدَّمَتْهُنَّ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَفَضْنَ فَإِنْ حِضْنَ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَنْتَظِرْ بِهِنَّ أَنْ يَطْهُرْنَ تَنْفِرُ بِهِنَّ وَهُنَّ حُيَّضٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جب عورتیں حج کرتیں تو وہ ڈرتیں کہ کہیں یہ حائضہ نہ ہو جائیں، تو وہ ان کو یومِ نحر کو ہی آگے بھیج دیتیں، وہ طوافِ افاضہ کر لیتیں، اگر اس کے بعد حائضہ ہو جاتیں تو وہ ان کے طہر کا انتظار نہ کرتیں اور حائضہ حالت میں ہی انہیں لے جاتیں۔
حدیث نمبر: 9758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا حَمَّادٌ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " رُخِّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَنْفِرَ إِذَا أَفَاضَتْ "، زَادَ أَبُو عَمْرٍو فِي حَدِيثِهِ قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ أَوَّلَ أَمَرِهِ: " إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ "، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ، عَنْ وُهَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حائضہ کے لیے رخصت دی گئی ہے کہ وہ افاضہ کرنے کے بعد لوٹ جائے، ابوعمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ نہیں لوٹ سکتی، پھر میں نے ان سے سنا کہ ”رسول اللہ ﷺ نے ان کو رخصت دی ہے“۔
حدیث نمبر: 9759
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحٌ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ، قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ؟ " قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: " فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَمَّا لِي فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ "، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ وَيَقُولُ: " مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، جب ان کو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ طوافِ وداع کرنے سے پہلے ہی لوٹ جائے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ وہ کہنے لگے: ”آپ یہ فتویٰ نہ دیں“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تو جا کر میرے لیے فلاں انصاری عورت سے پوچھ کہ کیا اس کو نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا تھا؟“ تو وہ ہنستے ہوئے واپس آئے اور کہنے لگے: ”آپ نے سچ کہا ہے۔“
حدیث نمبر: 9760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے ابن جریج رحمہ اللہ سے اسی قسم کی روایت نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 9761
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ السَّقَّاءُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْإِسْفَرَايِينِيَّانِ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَأَلَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ، طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ حَاضَتْ، فَقَالَ: " تَنْفِرُ "، فَقَالُوا: لَا نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ، وَهَذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يُخَالِفُكَ، قَالَ: " إِذَا أَتَيْتُمُ الْمَدِينَةَ فَسَلُوا "، فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ سَأَلُوا فَأَخْبَرُوهُمْ بِصَفِيَّةَ وَكَانَ فِيمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِصَفِيَّةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَاهُ خَالِدٌ وَقَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل مدینہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جس نے یوم نحر کو بیت اللہ کا طواف کرلیا، پھر وہ حائضہ ہوگئی، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ چلی جائے۔“ تو وہ کہنے لگے: ”ہم آپ کی بات نہیں مانتے، یہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”جب تم مدینہ جاؤ تو وہاں جا کر پوچھنا۔“ تو وہ لوگ جب مدینہ گئے تو انہوں نے پوچھا، انہوں نے ان کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا والی بات بتائی اور جن لوگوں سے انہوں نے پوچھا تھا، ان میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، انہوں نے بھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا والی بات ہی بتائی۔
حدیث نمبر: 9762
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: " تُقِيمُ حَتَّى تَطْهُرَ وَيَكُونُ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِذَا كَانَتْ قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ فَلْتَنْفِرْ "، فَأَرْسَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنِّي وَجَدْتُ الَّذِي قُلْتَ كَمَا قُلْتَ "، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَقُولَ بِمَا فِي كِتَابِ اللهِ "، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٢٩] فَقَدْ قَضَتِ التَّفَثَ وَوَفَّتِ النَّذْرَ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ فَمَا بَقِيَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ ٹھہری رہے حتیٰ کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس گزرے“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب وہ یومِ نحر کو طواف کر چکی ہو تو چلی جائے“ تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا کہ جو بات آپ نے کہی ہے وہ میں نے ویسے ہی پائی ہے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ﷺ کا قول عورتوں کے لیے جانتا ہوں لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کتاب اللہ کی رو سے بات کروں“، پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [سورة الحج: 29] ”پھر وہ اپنی نذروں کو پورا کریں اور پرانے گھر کا طواف کریں، اس نے میل کچیل بھی اتار لی اور نذر پوری کی اور بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا، اب کیا باقی ہے؟“
حدیث نمبر: 9763
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ حَاضَتْ فَلْتَنْفِرْ " وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " لَا تَنْفِرُ حَتَّى تَطْهُرَ وَتَطُوفَ بِالْبَيْتِ " ثُمَّ أَرْسَلَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب (عورت) یومِ نحر کو طواف کر لے، پھر حائضہ ہو جائے تو وہ (اپنے گھر) لوٹ آئے، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ نہ لوٹے یہاں تک کہ پاک ہو جائے اور بیت اللہ کا طواف کرے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا۔۔۔ سابقہ حدیث کی طرح ہی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 9764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: اخْتَلَفَ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ زَيْدٌ: " لِيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ " يَعْنِي الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِذَا أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ حَاضَتْ فَلْتَنْفِرْ إِنْ شَاءَتْ "، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: إِنَّا لَا نُتَابِعُكَ إِذَا خَالَفْتَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " سَلُوا صَاحِبَتَكُمْ أُمَّ سُلَيْمٍ "، فَسَأَلُوهَا فَأَنْبَأَتْ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ حَاضَتْ بَعْدَمَا طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: " الْخَيْبَةُ لَكِ حَبَسْتِنَا "، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ وَأَخْبَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ " أَنَّهَا لَقِيَتْ ذَاكَ وَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ "، أَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى هَاتَيْنِ الرِّوَايَتَيْنِ وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اختلاف کیا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا آخری کام طوافِ بیت اللہ ہو“ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب وہ قربانی والے دن افاضہ کر چکے، پھر حائضہ ہو جائے تو وہ جا سکتی ہے۔“ اگر چاہے تو انصار نے کہا: ”ہم تیری بات نہیں مانیں گے، کیونکہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تیری مخالفت کرتے ہیں“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ام سلیم رضی اللہ عنہا سے جا کر پوچھو“، تو انہوں نے پوچھا: وہ کہنے لگیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد یومِ نحر کو حائضہ ہو گئیں تو اس کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”تیرے لیے رسوائی ہو، تو تو ہمیں روکنے والی ہے“، انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو ذکر کی تو آپ ﷺ نے اسے کوچ کا حکم دیا اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا تو مجھے بھی آپ ﷺ نے کوچ کا حکم دیا۔