السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ترك الحائض الوداع باب: حائضہ عورت کا طوافِ وداع ترک کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ السَّقَّاءُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْإِسْفَرَايِينِيَّانِ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَأَلَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ، طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ حَاضَتْ، فَقَالَ: " تَنْفِرُ "، فَقَالُوا: لَا نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ، وَهَذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يُخَالِفُكَ، قَالَ: " إِذَا أَتَيْتُمُ الْمَدِينَةَ فَسَلُوا "، فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ سَأَلُوا فَأَخْبَرُوهُمْ بِصَفِيَّةَ وَكَانَ فِيمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِصَفِيَّةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَاهُ خَالِدٌ وَقَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ.عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل مدینہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جس نے یوم نحر کو بیت اللہ کا طواف کرلیا، پھر وہ حائضہ ہوگئی، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ چلی جائے۔“ تو وہ کہنے لگے: ”ہم آپ کی بات نہیں مانتے، یہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”جب تم مدینہ جاؤ تو وہاں جا کر پوچھنا۔“ تو وہ لوگ جب مدینہ گئے تو انہوں نے پوچھا، انہوں نے ان کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا والی بات بتائی اور جن لوگوں سے انہوں نے پوچھا تھا، ان میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، انہوں نے بھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا والی بات ہی بتائی۔