حدیث نمبر: 9696
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَسَنِ الْعَمِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ " وَزَادَ عِنْدَ قَوْلِهِ: " ثُمَّ عَرَضَ لَهُ شَيْطَانٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ، فَقَالَ: يَا أَبَتِ إِنَّهُ لَيْسَ بِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ {أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ} [الصافات: ١٠٥] قَالَ: فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ أَعْيَنَ أَبْيَضَ فَذَبَحَهُ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَتَّبِعُ ذَلِكَ الضَّرْبَ مِنَ الْكِبَاشِ، فَلَمَّا ذَهَبَ بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ " ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، قَالَ ابْنُ عَائِشَةَ: النَّغَفُ: دِيدَانٌ تَكُونُ فِي مَنَاخِرِ الشَّاةِ.
حافظ ثناء اللہ

ابو عاصم غنوی رحمہ اللہ نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، لیکن چند باتوں کا اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور یہاں پر بھی اضافہ کیا کہ پھر جمرہٴ وسطیٰ کے پاس شیطان ظاہر ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا، پھر اسے پیشانی کے بل لٹایا اور اسماعیل علیہ السلام پر سفید رنگ کی قمیص تھی تو وہ کہنے لگے: ”اے ابوجان! میرے پاس ایسا کوئی کپڑا نہیں ہے جس میں آپ مجھے کفن دیں“، تو وہ اس قمیص کو اتارنے لگے تو پیچھے سے آواز آئی: ﴿قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ﴾ [سورة الصافات: 104-105] ”اے ابراہیم! یقیناً آپ نے خواب کو سچ کر دکھایا ہے، یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں“۔ تو ابراہیم علیہ السلام نے جھانکا تو سفید رنگ کا موٹی آنکھوں اور موٹے سینگوں والا مینڈھا تھا تو انہوں نے اسے ذبح کر دیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ہم اسی قسم کے مینڈھے تلاش کرتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام ان کو جمرہٴ قصویٰ کے پاس لے گئے تو شیطان نمودار ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا، پھر باقی حدیث اسی طرح ذکر کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9696
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ انظر قبله وسنده صالح»