السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية حمل السلاح في أيام الحج وإدخاله الحرم من غير حاجة باب: حج کے دنوں میں ہتھیار اٹھانے اور بغیر ضرورت اسے حرم میں داخل کرنے کی کراہت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ قَالَ: دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُمَا يَعُودُهُ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: " أَجِدُنِي صَالِحًا "، قَالَ: مَنْ أَصَابَ رِجْلَكَ؟، قَالَ: " أَصَابَهَا مَنْ أَمَرَ بِحَمْلِ السِّلَاحِ فِي يَوْمٍ لَا يَحِلُّ حَمْلُهُ فِيهِ " يَعْنِيهِ، قَالَ: لَوْ عَرَفْنَاهُ لَعَاقَبْنَاهُ. وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ نَفَرُوا عَشِيَّةَ النَّفْرِ، وَرَجُلٌ مِنْ أَحْرَاسِ الْحَجَّاجِ عَارِضٌ حَرْبَتَهُ فَضَرَبَ ظَهْرَ قَدَمِ ابْنِ عُمَرَ فَؤُمِرَّ فِيهَا حَتَّى مَاتَ مِنْهَا حَدِيثُ أَبِي نُعَيْمٍ مُخْتَصَرٌ وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي النَّضْرِ، رَوَاهُ ⦗٢٥٢⦘ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ.سعید کہتے ہیں کہ حجاج، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی عیادت کرنے کے لیے آیا تو میں بھی وہاں موجود تھا، اس نے پوچھا: کیسی طبیعت ہے؟ تو انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اس نے پوچھا: آپ کی ٹانگ کو کس نے زخمی کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جس نے ایسے دن میں اسلحہ اٹھانے کا کہا جس دن اس کا اٹھانا جائز نہیں، یعنی حجاج نے۔ وہ کہنے لگا: اگر ہم اس کو جان لیں تو اسے سزا دیں گے اور بات اصل میں یہ تھی کہ لوگ نفر والی رات چلے گئے اور حجاج کے پہرے داروں میں سے کسی ایک نے جو کہ اپنا نیزہ پھیلائے کھڑا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاؤں کے اوپر والی جانب پر مارا تو وہ اسی تکلیف میں مبتلا رہے حتیٰ کہ فوت ہو گئے۔