السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما جاء في بدء الرمي باب: رمی کی ابتدا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ بِالْبَيْتِ وَأَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ: " صَدَقُوا وَكَذَبُوا "، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " صَدَقُوا طَافَ عَلَى بَعِيرٍ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصْرِفُ النَّاسَ عَنْهُ وَلَا يَدْفَعُ فَطَافَ عَلَى الْبَعِيرِ حَتَّى يَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَلَا تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ "، قُلْتُ: يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: " صَدَقُوا وَكَذَبُوا "، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: ارْمُلُوا وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ "، قُلْتُ: وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: " صَدَقُوا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُرِيَ الْمَنَاسِكَ عَرَضَ ⦗٢٥١⦘ لَهُ شَيْطَانٌ عِنْدَ الْمَسْعَى فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى أَتَى بِهِ مِنًى، فَقَالَ لَهُ: مُنَاخُ النَّاسِ هَذَا، ثُمَّ انْتَهَى إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ، يَعْنِي الشَّيْطَانَ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا، فَقَالَ: هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ عَرَفَةَ، فَقَالَ: هَذِهِ عَرَفَةُ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَتَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: " لِأَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لَهُ أَعَرَفْتَ؟ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَتَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ " قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ أُمِرْتِ الْجِبَالُ فَخَفَضَتْ رُءُوسَهَا، وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ ".ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور یہ سنت ہے، انہوں نے فرمایا کہ وہ سچ اور جھوٹ بولتے ہیں، میں نے کہا: کیا سچ اور جھوٹ بولتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: وہ سچ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ پر بیت اللہ کا طواف کیا اور یہ سنت نہیں ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگوں کو ہٹایا نہیں جاتا تھا تو آپ ﷺ نے اونٹ پر طواف کیا تاکہ لوگ آپ ﷺ کی بات سنیں اور آپ ﷺ تک ان کے ہاتھ نہ پہنچیں، میں نے کہا: وہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، تو وہ کہنے لگے: انہوں نے سچ اور جھوٹ کہا ہے، میں نے کہا: کیا سچ اور جھوٹ کہا ہے؟ کہنے لگے: سچ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے رمل کیا ہے اور جھوٹ یہ بولا ہے کہ یہ سنت ہے۔ قریش نے کہا تھا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ دماغ والے کیڑے کی موت مر جائیں، تو جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس بات پر صلح کی کہ وہ اگلے سال آئیں اور تین دن تک مکہ میں رہیں تو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آئے اور مشرکین قیعقان کی طرف بیٹھے تھے، آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”رمل کرو“ اور یہ سنت نہیں ہے۔ میں نے کہا: آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان نبی ﷺ نے سعی کی ہے اور یہ سنت ہے۔ تو انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، جب ابراہیم علیہ السلام کو مناسک دکھائے گئے تو سعی والی جگہ پر شیطان نمودار ہوا اور ان کے مقابلہ میں دوڑنے لگا تو ابراہیم علیہ السلام سبقت لے گئے، پھر جبریل علیہ السلام آپ کو لے چلے حتیٰ کہ منیٰ پہنچے تو کہا: یہ لوگوں کے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے۔ پھر جمرہ عقبہ پر پہنچے تو شیطان نمودار ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا، پھر مزدلفہ پہنچے تو کہا: یہ مشعرِ حرام ہے، پھر ان کو لے کر عرفہ آئے تو کہا: یہ عرفہ ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا تجھے علم ہے اس کا نام عرفہ کیوں ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: اس لیے کہ جبریل علیہ السلام نے ان سے کہا تھا: کیا آپ نے پہچان لیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تجھے معلوم ہے کہ تلبیہ کیسے تھا؟ میں نے پوچھا: کیسے ہے؟ فرمانے لگے: جب ابراہیم علیہ السلام کو لوگوں میں اعلانِ حج کا حکم دیا گیا تو پہاڑوں کو حکم دیا گیا، انہوں نے اپنے سروں کو جھکایا اور بستیوں کو آپ علیہ السلام کے لیے بلند کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا۔ [صحیح لغیرہ۔ احمد 1/ 297۔ ابوداود 1885۔ طیالسی 2697]