حدیث نمبر: 9693
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ، قَالَ: " لَمَّا أَتَى إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْمَنَاسِكَ عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ فِي الْجَمْرَةِ الثَّالِثَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فِي الْأَرْضِ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: " الشَّيْطَانَ تَرْجُمُونِ، وَمِلَّةَ أَبِيكُمْ تَتَّبِعُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مناسک ادا کرنے آئے تو جمرہ عقبہ کے پاس شیطان ظاہر ہوا، انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر وہ دوسرے جمرے کے پاس ظاہر ہوا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر وہ تیسرے جمرے کے پاس ظاہر ہوا، تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تم شیطان کو رجم کرو اور اپنے والد ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو۔
حدیث نمبر: 9694
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ بِهِ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ، فَانْفَرَجَ لَهُ ثَبِيرٌ فَدَخَلَ مِنًى فَأَرَاهُ الْجِمَارَ، ثُمَّ أَرَاهُ جَمْعًا، ثُمَّ أَرَاهُ عَرَفَاتٍ فَنَبَغَ الشَّيْطَانُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، ثُمَّ نَبَغَ لَهُ فِي الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، ثُمَّ نَبَغَ لَهُ فِي جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فَذَهَبَ " وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ تَفَرَّدَ بِهِ هَكَذَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جبریل، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو لے کر مناسک دکھانے گئے، ان کے لیے ” ثبیر “ نمودار ہوا، وہ منیٰ میں داخل ہوئے، انہوں نے آپ کو جمرات دکھائے پھر مزدلفہ، پھر عرفات کا میدان دکھایا تو شیطان نبی کریم ﷺ کے سامنے جمرہ کے پاس ظاہر ہوا تو آپ ﷺ نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا، پھر وہ دوسرے جمرے کے پاس ظاہر ہوا تو آپ ﷺ نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا، پھر وہ جمرہ عقبہ کے پاس ظاہر ہوا، آپ ﷺ نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا۔
حدیث نمبر: 9695
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ بِالْبَيْتِ وَأَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ: " صَدَقُوا وَكَذَبُوا "، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " صَدَقُوا طَافَ عَلَى بَعِيرٍ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصْرِفُ النَّاسَ عَنْهُ وَلَا يَدْفَعُ فَطَافَ عَلَى الْبَعِيرِ حَتَّى يَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَلَا تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ "، قُلْتُ: يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: " صَدَقُوا وَكَذَبُوا "، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: ارْمُلُوا وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ "، قُلْتُ: وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: " صَدَقُوا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُرِيَ الْمَنَاسِكَ عَرَضَ ⦗٢٥١⦘ لَهُ شَيْطَانٌ عِنْدَ الْمَسْعَى فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى أَتَى بِهِ مِنًى، فَقَالَ لَهُ: مُنَاخُ النَّاسِ هَذَا، ثُمَّ انْتَهَى إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ، يَعْنِي الشَّيْطَانَ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا، فَقَالَ: هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ عَرَفَةَ، فَقَالَ: هَذِهِ عَرَفَةُ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَتَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: " لِأَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لَهُ أَعَرَفْتَ؟ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَتَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ " قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ أُمِرْتِ الْجِبَالُ فَخَفَضَتْ رُءُوسَهَا، وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور یہ سنت ہے، انہوں نے فرمایا کہ وہ سچ اور جھوٹ بولتے ہیں، میں نے کہا: کیا سچ اور جھوٹ بولتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: وہ سچ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ پر بیت اللہ کا طواف کیا اور یہ سنت نہیں ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگوں کو ہٹایا نہیں جاتا تھا تو آپ ﷺ نے اونٹ پر طواف کیا تاکہ لوگ آپ ﷺ کی بات سنیں اور آپ ﷺ تک ان کے ہاتھ نہ پہنچیں، میں نے کہا: وہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، تو وہ کہنے لگے: انہوں نے سچ اور جھوٹ کہا ہے، میں نے کہا: کیا سچ اور جھوٹ کہا ہے؟ کہنے لگے: سچ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے رمل کیا ہے اور جھوٹ یہ بولا ہے کہ یہ سنت ہے۔ قریش نے کہا تھا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ دماغ والے کیڑے کی موت مر جائیں، تو جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس بات پر صلح کی کہ وہ اگلے سال آئیں اور تین دن تک مکہ میں رہیں تو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آئے اور مشرکین قیعقان کی طرف بیٹھے تھے، آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”رمل کرو“ اور یہ سنت نہیں ہے۔ میں نے کہا: آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان نبی ﷺ نے سعی کی ہے اور یہ سنت ہے۔ تو انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، جب ابراہیم علیہ السلام کو مناسک دکھائے گئے تو سعی والی جگہ پر شیطان نمودار ہوا اور ان کے مقابلہ میں دوڑنے لگا تو ابراہیم علیہ السلام سبقت لے گئے، پھر جبریل علیہ السلام آپ کو لے چلے حتیٰ کہ منیٰ پہنچے تو کہا: یہ لوگوں کے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے۔ پھر جمرہ عقبہ پر پہنچے تو شیطان نمودار ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا، پھر مزدلفہ پہنچے تو کہا: یہ مشعرِ حرام ہے، پھر ان کو لے کر عرفہ آئے تو کہا: یہ عرفہ ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا تجھے علم ہے اس کا نام عرفہ کیوں ہے؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: اس لیے کہ جبریل علیہ السلام نے ان سے کہا تھا: کیا آپ نے پہچان لیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تجھے معلوم ہے کہ تلبیہ کیسے تھا؟ میں نے پوچھا: کیسے ہے؟ فرمانے لگے: جب ابراہیم علیہ السلام کو لوگوں میں اعلانِ حج کا حکم دیا گیا تو پہاڑوں کو حکم دیا گیا، انہوں نے اپنے سروں کو جھکایا اور بستیوں کو آپ علیہ السلام کے لیے بلند کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا۔ [صحیح لغیرہ۔ احمد 1/ 297۔ ابوداود 1885۔ طیالسی 2697]
حدیث نمبر: 9696
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَسَنِ الْعَمِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ " وَزَادَ عِنْدَ قَوْلِهِ: " ثُمَّ عَرَضَ لَهُ شَيْطَانٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ، فَقَالَ: يَا أَبَتِ إِنَّهُ لَيْسَ بِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ {أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ} [الصافات: ١٠٥] قَالَ: فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ أَعْيَنَ أَبْيَضَ فَذَبَحَهُ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَتَّبِعُ ذَلِكَ الضَّرْبَ مِنَ الْكِبَاشِ، فَلَمَّا ذَهَبَ بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ " ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، قَالَ ابْنُ عَائِشَةَ: النَّغَفُ: دِيدَانٌ تَكُونُ فِي مَنَاخِرِ الشَّاةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عاصم غنوی رحمہ اللہ نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، لیکن چند باتوں کا اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور یہاں پر بھی اضافہ کیا کہ پھر جمرہٴ وسطیٰ کے پاس شیطان ظاہر ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا، پھر اسے پیشانی کے بل لٹایا اور اسماعیل علیہ السلام پر سفید رنگ کی قمیص تھی تو وہ کہنے لگے: ”اے ابوجان! میرے پاس ایسا کوئی کپڑا نہیں ہے جس میں آپ مجھے کفن دیں“، تو وہ اس قمیص کو اتارنے لگے تو پیچھے سے آواز آئی: ﴿قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ﴾ [سورة الصافات: 104-105] ”اے ابراہیم! یقیناً آپ نے خواب کو سچ کر دکھایا ہے، یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں“۔ تو ابراہیم علیہ السلام نے جھانکا تو سفید رنگ کا موٹی آنکھوں اور موٹے سینگوں والا مینڈھا تھا تو انہوں نے اسے ذبح کر دیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ہم اسی قسم کے مینڈھے تلاش کرتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام ان کو جمرہٴ قصویٰ کے پاس لے گئے تو شیطان نمودار ہوا تو اس کو سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ چلا گیا، پھر باقی حدیث اسی طرح ذکر کی۔