السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما جاء في بدء الرمي باب: رمی کی ابتدا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ بِهِ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ، فَانْفَرَجَ لَهُ ثَبِيرٌ فَدَخَلَ مِنًى فَأَرَاهُ الْجِمَارَ، ثُمَّ أَرَاهُ جَمْعًا، ثُمَّ أَرَاهُ عَرَفَاتٍ فَنَبَغَ الشَّيْطَانُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، ثُمَّ نَبَغَ لَهُ فِي الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، ثُمَّ نَبَغَ لَهُ فِي جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فَذَهَبَ " وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ تَفَرَّدَ بِهِ هَكَذَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جبریل، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو لے کر مناسک دکھانے گئے، ان کے لیے ” ثبیر “ (پہاڑ) کھل گیا، وہ منیٰ میں داخل ہوئے، انہوں نے آپ کو جمرات دکھائے پھر مزدلفہ، پھر عرفات کا میدان دکھایا تو شیطان نبی کریم ﷺ کے سامنے جمرہ کے پاس ظاہر ہوا تو آپ ﷺ نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا، پھر وہ دوسرے جمرے کے پاس ظاہر ہوا تو آپ ﷺ نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا، پھر وہ جمرہ عقبہ کے پاس ظاہر ہوا، آپ ﷺ نے اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ وہ دھنس گیا۔
اس روایت کو اس طرح بیان کرنے میں عطاء بن سائب منفرد ہیں۔