حدیث نمبر: 9605
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، قَالَ: غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ رَجُلًا آدَمَ لَهُ ضَفِيرَتَانِ عَلَيْهِ مِسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَكَانَ يُلَبِّي فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءُ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ فَقَالُوا: يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلِيَّ، فَقَالَ: " جَهِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ إِلَّا أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ " وَقَدْ رُوِّينَا مَعْنَى هَذَا مُخْتَصَرًا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ سے عرفہ تک گیا اور عبداللہ گندم گوں رنگ کے آدمی تھے، ان کی دو مینڈھیاں تھیں، ان پر اہل بادیہ والی چادر تھی اور وہ تلبیہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کا ایک جمگٹھا آپ کے پاس جمع ہوا تو انہوں نے کہا: اے اعرابی! یہ تلبیہ کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ تو تکبیرات کا دن ہے، تو اس وقت انہوں نے میری طرف جھانکا اور فرمایا: لوگ یا تو جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف نکلا تو آپ ﷺ نے جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ منقطع نہ فرمایا، درمیان میں تکبیر و تہلیل بھی کہہ لیتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9605
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابن خزيمه 2806۔ حاكم 1/ 632»