السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التلبية حتى يرمي جمرة العقبة بأول حصاة ثم يقطع باب: جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ پڑھنے اور پھر اسے روک دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9606
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَمَا أَزَالُ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَلَمَّا قَذَفَهَا أَمْسَكَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، فَقَالَ: " رَأَيْتُ أَبِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوٹا تو میں انہیں تلبیہ کہتے ہوئے ہی سنتا رہا حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ جب اس کی طرف پتھر پھینکا تو خاموش ہو گئے تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے والد علی رضی اللہ عنہ کو جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ کہتے ہوئے دیکھا ہے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ”نبی ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔“