حدیث نمبر: 9604
وَأَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ مَعَ آخِرِ حَصَاةٍ قَالَ الشَّيْخُ: تَكْبِيرُهُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ كَالدِّلَالَةِ عَلَى قَطْعِهِ التَّلْبِيَةَ بِأَوَّلِ حَصَاةٍ، كَمَا رُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَقَوْلُهُ: يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ أَرَادَ بِهِ حَتَّى أَخَذَ فِي رَمْيِ الْجَمْرَةِ، وَأَمَّا مَا فِي رِوَايَةِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الزِّيَادَةِ فَإِنَّهَا غَرِيبَةٌ أَوْرَدَهَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَاخْتَارَهَا وَلَيْسَتْ فِي الرِّوَايَاتِ الْمَشْهُورَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا فضل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ عرفات سے لوٹا اور آپ ﷺ جمرہ عقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے، آپ ﷺ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے۔ پھر آخری کنکری کے ساتھ تلبیہ ختم کیا۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ کے ختم کرنے پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں روایت کیا ہے اور ان کا قول: «يُلَبِّي» ”کہ وہ تلبیہ کہتے“ حتیٰ کہ رمی جمار کر لیتے، اس سے ان کی مراد یہ ہے: «حَتَّى أَخَذَ فِي رَمْيِ الْجَمْرَةِ» ”حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ کی رمی شروع کر دی“
اور باقی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت میں جو اضافہ ہے وہ غریب ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا تلبیہ قطع کرنے پر دلالت کرتا ہے، پہلی کنکری پر ہی جیسا کہ حدیث سے واضح ہوتا ہے، لیکن جو دوسری روایت کے آخر میں جو الفاظ زائد ہیں یہ تو انوکھے ہی ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9604
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ نسائي 3079۔ بزار: 2142»