السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يحل بالتحلل الأول من محظورات الإحرام باب: تحللِ اول (پہلی بار حلال ہونے) سے احرام کی جو پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 9590
أَخْبَرَنَا ٥ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: خَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ بِعَرَفَةَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِ الْحَجِّ، فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: " إِذَا كَانَ بِالْغَدَاةِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فَدَفَعْتُمْ مِنْ جَمْعٍ فَمَنْ رَمَى جَمْرَةَ الْقُصْوَى الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ لَهُ، ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ مِنْ شَأْنِ الْحَجِّ إِلَّا طِيبًا أَوْ نِسَاءً، فَلَا يَمَسَّ أَحَدٌ طِيبًا وَلَا نِسَاءً حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عرفہ میں خطبہ دیا اور ان کو مناسکِ حج بتائے اور اس دوران یہ بات بھی کہی کہ صبح کو «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ تم جمع سے لوٹو گے، تو جس نے جمرہ قصویٰ جو کہ عقبہ کے پاس ہے اس کی سات کنکریوں کے ساتھ رمی کی، پھر آکر اس نے قربانی کی، اگر اس کے پاس ہے، تو پھر اس نے سر منڈوایا یا بال کٹوائے تو اس کے لیے وہ تمام کچھ حلال ہوجائے گا جو حج کی وجہ سے حرام تھا، عورتوں اور خوشبو کے سوا؛ لہٰذا کوئی بھی نہ تو خوشبو کو چھوئے نہ عورتوں کو حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کر لے۔