السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يحل بالتحلل الأول من محظورات الإحرام باب: تحللِ اول (پہلی بار حلال ہونے) سے احرام کی جو پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 9591
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَذَبَحْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ " قَالَ سَالِمٌ وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ "، قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْنِي لِحِلِّهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب تم جمرہ کو سات کنکریاں مار لو اور ذبح کرلو اور سر منڈا لو تو تمہارے لیے عورتوں اور خوشبو کے علاوہ باقی سب حلال ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ محرم کے لیے عورتوں کے سوا سب کچھ حلال ہو جاتا ہے اور فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی، وہ آپ ﷺ کے حلال ہونے کو مراد لے رہی تھیں۔