السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من لبد أو ضفر، أو عقص حلق باب: جس نے اپنے بال جمائے، یا مینڈھیاں گوندھیں، یا انہیں جوڑے کی شکل میں باندھا تو وہ اپنا سر منڈوائے۔
حدیث نمبر: 9589
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، بِبُخَارَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مَنْ لَبَّدَ أَوْ ضَفَّرَ، أَوْ عَقَدَ، أَوْ فَتَلَ أَوْ ⦗٢٢١⦘ عَقَصَ فَهُوَ عَلَى مَا نَوَى مِنْ ذَلِكَ " قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " حَلَقَ لَا بُدَّ ".حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس نے لیپ کیا یا مینڈھیاں بنائیں یا بالوں کو بل دیے یا بال باندھے تو وہ اپنی نیت پر ہی ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سر منڈانا ضروری ہے۔