السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب المنع من الانتفاع بشعر الميتة باب: مردار کے بالوں سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 90
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمٌ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَأَلَ دَاوُدُ السَّرَّاجُ الْحَسَنَ، عَنْ جُلُودِ النُّمُورِ وَالسَّمُورِ تُدْبَغُ بِالْمِلْحِ؟ فَقَالَ: " دِبَاغُهَا طَهُورُهَا ". قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ فِي صُوفِ الْمَيْتَةِ: اغْسِلْهُ. وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، وَالْحَكَمِ وَحَمَّادٍ أَنَّهُمْ كَرِهُوا اسْتِعْمَالَ شَعْرِ الْخِنْزِيرِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت داؤد سراج رحمہ اللہ نے حسن رحمہ اللہ سے چیتوں اور بندروں کی کھال کے متعلق پوچھا کہ اگر انہیں نمک سے دباغت دی جائے تو انہوں نے فرمایا: ”ان کو دباغت دینا ان کو پاک کرنا ہے۔“
(ب) شیخ فرماتے ہیں: حضرت حسن رحمہ اللہ سے مردار کی اون کے متعلق منقول ہے کہ اس کو دھو لیا جائے۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(د) ابن سیرین رحمہ اللہ، حکم رحمہ اللہ اور حماد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ خنزیر کے بالوں کے استعمال کو حرام سمجھتے تھے۔