السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يستحب من الإهلال عند التوجه إلى منى إن كان بمكة أو عند المضي في سفره لنسكه إن كان بغيرها باب: منیٰ کی طرف روانہ ہوتے وقت احرام باندھنے کے مستحب ہونے کا بیان اگر وہ مکہ میں ہو، یا اپنے مناسک کے سفر پر روانہ ہوتے وقت اگر وہ کسی اور جگہ ہو۔
حدیث نمبر: 8936
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْنَا نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوهَا عُمْرَةً " فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم آئے تو حج کی آوازیں بلند کرتے ہوئے آئے اور جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو عمرہ بنا لو۔“ جب ترویہ کا دن (آٹھ ذوالحجہ) آیا تو ہم نے حج کا تلبیہ کہا۔