کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: منیٰ کی طرف روانہ ہوتے وقت احرام باندھنے کے مستحب ہونے کا بیان اگر وہ مکہ میں ہو، یا اپنے مناسک کے سفر پر روانہ ہوتے وقت اگر وہ کسی اور جگہ ہو۔
حدیث نمبر: 8935
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوَا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: أَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ ⦗٤٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”اے ابو عبدالرحمن! میں نے دیکھا کہ آپ چار ایسے کام کرتے ہیں جو آپ کا کوئی بھی ساتھی نہیں کرتا۔“ تو انھوں نے پوچھا: ”ابو جریج! وہ کیا ہیں؟“ تو انھوں نے ساری بات ذکر کی جس میں یہ بھی تھا کہ ”میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ ہوتے ہیں تو لوگ تو چاند دیکھتے ہی تلبیہ شروع کر دیتے ہیں اور آپ نہیں کہتے ہیں حتیٰ کہ یوم ترویہ آ جاتا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو تلبیہ کہنے کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو تلبیہ کہتے نہیں سنا حتیٰ کہ آپ کی سواری ان کو لے کر چل پڑی۔“
حدیث نمبر: 8936
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْنَا نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوهَا عُمْرَةً " فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم آئے تو حج کی آوازیں بلند کرتے ہوئے آئے اور جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو عمرہ بنا لو۔“ جب ترویہ کا دن (آٹھ ذوالحجہ) آیا تو ہم نے حج کا تلبیہ کہا۔
حدیث نمبر: 8937
وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَرُحْنَا إِلَى مِنًى أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا تلبیہ بلند کرتے ہوئے نکلے، پھر جب ہم مکہ پہنچے تو ہمیں ”اس کو عمرہ بنانے“ کا حکم دیا، ان لوگوں کے سوا جن کے پاس قربانیاں تھیں، پھر جب ترویہ کا دن آیا اور ہم منیٰ کی طرف چلے تو ہم نے حج کا تلبیہ کہا۔
حدیث نمبر: 8938
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَكٍ الْقَزَّازُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمَرَنَا بَعْدَمَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى فَأَهِلُّوا " قَالَ: فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْبَطْحَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ طواف کر لینے کے بعد آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں اور نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم منیٰ کی طرف نکلنے کا ارادہ کرو تو تلبیہ شروع کر دو“ تو ہم نے بطحا سے تلبیہ کا آغاز کیا۔
حدیث نمبر: 8939
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔